موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

کسان تنظیموں کی حکومت کے ساتھ اعلیٰ سطحی میٹنگ شروع

میٹنگ میں ان سبھی تنظیموں کو مدعو کیا گیا ہے، جنہیں پچھلی میٹنگ میں بلایا گیا تھا۔ پولیس کی حفاظت میں دو بسوں میں کسان رہنماؤں کو میٹنگ کے مقام تک لایا گیا۔

نئی دہلی: زرعی قانون کے خلاف دہلی کی سرحدوں پر مظاہرہ کرنے والی کسان تنظیموں کے ساتھ 32 اراکین کی حکومت کے ساتھ اعلی سطحی بات چیت شروع ہوگئی۔

اس سے پہلے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے پنجاب کے کسان رہنماؤں سے بات کی اور مسٹر یوگیندر یادو کو اس میٹنگ میں شامل نہ کرنے کی اپیل کی۔ اس پر کسان تنظیموں نے بات چیت کا بائیکاٹ کرنے کا فیصلہ کیا لیکن مسٹر یادو کو جب اس کی اطلاع ملی تو انہوں نے خود میٹنگ میں شامل ہونے سے انکار کردیا۔

میٹنگ میں شامل ہونے سے پہلے مشترکہ کسان محاذ کی طرف سے کہا گیا ہے کہ ان کی حکومت کے ساتھ بات چیت تبھی ممکن ہو پائے گی جب ان کے ساتھ مسٹر یوگیندر یادو، حنان مولا، شیو کمار ککا جی اور گرنام سنگھ چودونی کو میٹنگ میں شامل ہونے کی اجازت دی جائے گی۔

مسٹر یادو نے کہا کہ بات چیت اہم ہے اس لئے ان کی وجہ سے بات چیت کو روکنا صحیح نہیں ہے۔ انہوں نے کسان رہنماؤں سے کہا کہ بغیر ان کے بارے میں سوچے اپنا فیصلہ کریں۔

واضح رہے کہ وزیر زراعت نریندر سنگھ تومر نے دیر رات کسان تنظیموں کو یکم دسمبر کو دوپہر تین بجے سائنس سینٹر، نئی دہلی میں بات چیت کے لئے مدعو کیا تھا۔ اس میٹنگ میں ان سبھی تنظیموں کو مدعو کیا گیا ہے، جنہیں پچھلی میٹنگ میں بلایا گیا تھا۔ پولیس کی حفاظت میں دو بسوں میں کسان رہنماؤں کو میٹنگ کے مقام تک لایا گیا۔