موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

ٹرمپ نے مان لی شکست، نو منتخب صدر بائیڈن کی انتظامیہ کو ملی اقتدار کی منتقلی کی منظوری

 

امریکہ میں صدارتی انتخابات میں ڈیموکریٹ امیدوار جوزف بائیڈن کو فاتح قرار دیئے جانے کے کوئی دو ہفتے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پہلی بار شکست تسلیم کی ہے۔ ٹرمپ نے نو منتخب صدر بائیڈن کی انتظامیہ کو اختیارات منتقلی کی منظوری دے دی۔

واشنگٹن: انجام کار صدر امریکہ ڈونلڈ ٹرمپ نے نو منتخب صدر جوزف بائیڈن کی انتظامیہ کو اختیارات منتقلی کی منظوری دے دی۔ اس کے ساتھ ہی شش و پنج کا وہ ماحول ختم ہوا جو ٹرمپ کے مسلسل ٹال مٹول کا نتیجہ تھا۔

جنرل سروس ایڈمنسٹریشن کی سربراہ ایملی مرفی نے تحریری طور پر نو منتخب امریکی صدر جو بائیڈن کو آگاہ کیا کہ ٹرمپ انتظامیہ اقتدار کی باضابطہ منتقلی کا عمل شروع کرنے پر راضی ہو گئی ہے۔

ایملی مرفی کا ئی مکتوب مل جانے کے بعد اب بائیڈن انتطامیہ حکومت سازی کے لئے سرکاری فنڈ استعمال کرنے کی متحمل ہو گئی ہے۔ نومنتخب صدر جو بائیڈن نے اقتدار کی پرامن منتقلی کو خوش آئند قرار دیا ہے۔

امریکہ میں صدارتی انتخابات میں ڈیموکریٹ امیدوار جو بائیڈن کو فاتح قرار دیئے جانے کے کوئی دو ہفتے بعد صدر ٹرمپ نے اس اولین اقدام کے ذریعہ پہلی بار شکست تسلیم کی ہے۔

ایملی مرفی کے مکتوب کے مطابق یہ فیصلہ قانون اور دستیاب حقائق کو مد نظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔ صدر ٹرمپ کا بہر حال کہنا ہے کہ جہاں تک قانونی جنگ کا سوال ہے تو وہ جاری رہے گی۔