موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

اقلیتی طبقہ کے خلاف تشدد کے واقعات کے بعد بنگلہ دیش کے رابطے میں ہندوستان

مشرقی بنگلہ دیش کے کومیلا کے مراد نگر میں فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کے خلاف مظاہرے کے دوران اقلیتی برادری کے خلاف تشدد کی خبریں

نئی دہلی: ہندوستان کی وزارت خارجہ نے سنیچر کے روز کہا کہ بنگلہ دیش میں اقلیتی برادریوں کے خلاف تشدد کے واقعات پر ڈھاکہ میں ہندوستانی ہائی کمیشن بنگلہ دیش کے حکام سے رابطے میں ہے۔ ہندوستانی عہدیداروں نے کہا ہے کہ معاشرتی اور فرقہ وارانہ تناؤ کو فروغ دینے کی اس طرح کی کوششوں کو ‘بہت سنجیدگی سے’ لیا جارہا ہے۔

وزارت خارجہ کے ایک ترجمان نے بتایا ہے کہ ہندوستانی حکومت کو آگاہ کیا گیا ہے کہ بنگلہ دیش میں قانون نافذ کرنے والے اہلکار تشدد کے پھیلنے کی تحقیقات کر رہے ہیں اور وہ کسی بھی قسم کی ناگوار مسئلے کو روکنے کے لئے چوکس رہیں گے۔

ترجمان نے کہا کہ ‘ہمیں مشرقی بنگلہ دیش کے کومیلا کے مراد نگر ضلع میں اقلیتی طبقہ کے خلاف تشدد کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ بنگلہ دیش میں ہمارے ہائی کمیشن اور پوسٹس بنگلہ دیش حکومت میں مقامی حکام کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ انہوں نے اس واقعہ اور دیگر تمام واقعات میں معاشرتی اور فرقہ وارانہ تناؤ کو بہت سنجیدگی سے لینے کی بات کہی ہے۔

ترجمان نے کہا کہ بھارت کو مطلع کیا گیا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اہلکار تشدد کے پھیلنے کی تحقیقات کر رہے ہیں اور وہ کسی بھی طرح کے تشدد کو روکنے کے لئے چوکس رہیں گے۔

2 نومبر کو  بنیاد پرست اسلام پسندوں نے فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے ضلع کومیلہ میں اقلیتی برادری کے متعدد گھروں کو لوٹ لیا اور آگ لگا دی۔ اطلاعات میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اقلیتی برادریوں کے کچھ عبادت گاہوں کو بھی نقصان پہنچایا گیا تھا۔

[ہمس لائیو]