موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

سری نگر کی تاریخی پتھر مسجد میں دوران شب لگی آگ

دریائے جہلم کے کناروں پر واقع تاریخی پتھر مسجد کو مغل بادشاہ جہانگیر کی شریک حیات نور جہاں نے سال 1623 میں تعمیر کروایا تھا۔ اس مسجد کے نو محراب ہیں جن میں مرکزی محراب سب سے بڑا ہے۔

سری نگر: سری نگر کے زینہ کدل علاقے میں واقع تاریخی پتھر مسجد کو دوران شب آگ کی ایک واردات میں جزوی نقصان پہنچا ہے۔

سرکاری ذرائع نے بتایا کہ پتھر مسجد میں دوران شب آگ نمودار ہوئی جس سے مسجد کا منبر مکمل طور پر خاکستر ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ چونکہ مسجد پتھروں کی بنی ہوئی ہے لہٰذا آگ سے زیادہ نقصان نہیں ہوا ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ فائرٹینڈرس، پولیس اور مقامی لوگوں کی کوششوں کے نتیجے میں آگ پر جلد ہی قابو پالیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ یہ آگ شارٹ سرکٹ ہونے سے لگی تھی۔

قابل ذکر ہے کہ پائین شہر کے زینہ کدل میں دریائے جہلم کے کناروں پر واقع تاریخی پتھر مسجد کو مغل بادشاہ جہانگیر کی شریک حیات نور جہاں نے سال 1623 میں تعمیر کروایا تھا۔

اس مسجد کی تعمیر وادی کی دیگر مساجد کی تعمیر سے بالکل منفرد ہے۔ روایتی چھت کے برعکس اس کا چھت ڈھلوان ہے۔ اس مسجد کے نو محراب ہیں جن میں مرکزی محراب سب سے بڑا ہے۔