موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

سپریم کورٹ نے لداخ ہل کونسل کے انتخابات کئے منسوخ، کمیشن پر جرمانہ عائد، نیا نوٹیفکیشن جاری کرنے کا حکم

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے بدھ کے روز لداخ ہل ڈیولپمنٹ کونسل (لداخ ہل کونسل) کے انتخابات کے نوٹیفکیشن کو منسوخ کرتے ہوئے نیا نوٹیفکیشن جاری کرنے کا حکم دیا۔ عدالت نے یہ فیصلہ ایک عرضی پر دیا جس میں انتخابات میں نیشنل کانفرنس کو ‘ہَل’ انتخابی نشان سے انکار کرنے کے فیصلے کو چیلنج کیا گیا تھا۔ لداخ ہل کونسل کے انتخابات 10 ستمبر کو ہونے تھے، اس کا نوٹیفکیشن 5 اگست کو جاری کیا گیا تھا۔

سپریم کورٹ نے لداخ انتظامیہ کو ایک ہفتے میں انتخابات کے لیے تازہ نوٹیفکیشن جاری کرنے کی ہدایت کی ہے۔ سپریم کورٹ نے لداخ انتظامیہ پر ایک لاکھ روپے کا جرمانہ بھی عائد کیا۔ پہلے ہائی کورٹ اور اب سپریم کورٹ نے بھی اسے غلط قرار دیا ہے۔ عدالت نے گزشتہ سماعت کے دوران اس درخواست پر فیصلہ محفوظ رکھا تھا۔

واضح رہے کہ ہل نیشنل کانفرنس کا رجسٹرڈ پارٹی نشان ہے لیکن لداخ الیکشن کمیشن نے پارٹی کو پہاڑی انتخابات میں اس کا استعمال کرنے سے روک دیا تھا۔ لداخ انتظامیہ نے کہا کہ نیشنل کانفرنس سمیت ریاستی پارٹیوں میں سے کوئی بھی لداخ میں ایک تسلیم شدہ سیاسی جماعت نہیں ہے اور اس لیے وہ ہل پر اپنے نشان کے طور پر دعویٰ نہیں کر سکتی۔ نیشنل کانفرنس نے اس فیصلے کو چیلنج کیا تھا۔