موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

وَن نیشن، وَن الیکشن: سابق صدر جمہوریہ رام ناتھ کووند کی صدارت میں آج ہوگی کمیٹی کی پہلی میٹنگ

وَن نیشن-وَن الیکشن (ایک ملک-ایک انتخاب) کے لیے مرکزی حکومت کی طرف سے تشکیل کمیٹی کی آج پہلی میٹنگ ہونے والی ہے۔ کچھ میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ میٹنگ سابق صدر جمہوریہ رام ناتھ کووند کے گھر پر ہی ان کی صدارت میں کی جا سکتی ہے جس میں کمیٹی کے سبھی اراکین شامل ہوں گے۔ میٹنگ کس وقت شروع ہوگی، اس سلسلے میں مصدقہ طور پر کچھ بھی سامنے نہیں آیا ہے، لیکن یہ ضرور بتایا جا رہا ہے کہ کمیٹی اراکین دوپہر بعد اس میٹنگ میں شریک ہونے کے لیے جمع ہو سکتے ہیں۔

قابل ذکر ہے کہ مرکزی حکومت نے لوک سبھا، ریاستی اسمبلیوں، نگر پالیکاؤں اور پنچایتوں کے انتخابات ایک ساتھ کرانے سے متعلق غور کرنے اور جلد از جلد سفارشات دینے کے لیے ہفتہ کو 8 رکنی اعلیٰ سطحی کمیٹی کا نوٹیفکیشن جاری کیا تھا۔ وزارت قانون کے اعلیٰ افسران نے گزشتہ اتوار کو رام ناتھ کووند سے ملاقات کی تھی اور یہ جاننا چاہا تھا کہ وہ کمیٹی کے ساتھ ایجنڈے پر کس طرح سے آگے بڑھیں گے۔

وزارت قانون نے پہلے ہی یہ جانکاری فراہم کر دی ہے کہ اس کمیٹی کی قیادت سابق صدر جمہوریہ رام ناتھ کووند کریں گے۔ کمیٹی میں وزیر داخلہ امت شاہ، راجیہ سبھا میں حزب مخالف کے سابق لیڈر غلام نبی آزاد، مالیاتی کمیشن کے سابق صدر این کے سنگھ، لوک سبھا کے سابق جنرل سکریٹری سبھاش سی کشیپ، سینئر وکیل ہریش سالوے اور سابق چیف وجلنس کمشنر سنجے کوٹھاری شامل ہیں۔ کانگریس لیڈر ادھیر رنجن چودھری کو بھی اس کمیٹی میں شامل کیا گیا تھا لیکن انھوں نے اس دعوت کو نامنظور کرتے ہوئے کمیٹی سے خود کو کنارہ کر لیا ہے۔