موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

’ایک ملک، ایک انتخاب‘ کے ذریعے حزب اختلاف کی حکومت گرائی جائے گی، راکیش ٹکیت کا مرکزی حکومت پر حملہ

مظفرنگر: ملک میں ’ایک ملک، ایک انتخاب‘ پر جاری بحث کے درمیان بھارتیہ کسان یونین کے ترجمان راکیش ٹکیت نے کہا ہے کہ یہ حزب اختلاف کی حکومت کو گرانے کی ایک سازش ہے۔ راکیش ٹکتی نے کہا کہ ’ایک ملک، ایک انتخاب‘ سے مرکز صدر ہند کو زیادہ طاقت فراہم کرے گا اور جہاں حزب اختلاف کی حکومت ہوگی اسے گرا دیں گے۔ حزب اختلاف کی حکومت کو ایک سال میں گرا کر 4 سال کر صدر راج نافذ کر کے اس پر حکمرانی کی جائے گی۔

خیال رہے کہ 2 ستمبر کو مرکزی حکومت نے ’ایک ملک، ایک انتخاب‘ کے امکابات تلاش کرنے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دیی ہے۔ تشکیل شدہ آٹھ رکنی کمیٹی کا چیئرمین سابق صدر رام ناتھ کووند کو بنایا گیا ہے۔ اس کے بعد سے حزب اختلاف کی جانب سے حکومت پر تنقید کی جا رہی ہے۔

’ایک ملک، ایک انتخاب‘ پر تبصرہ کرتے ہوئے راکیش ٹکیت نے مزید کہا کہ جس کو انتخاب لڑنا ہے یہ ان کا انتخاب ہے۔ حکومت اگر کچھ ٹھیک کرے گی تو عوام اس کے ساتھ چلی جائے گی اور اگر ٹھیک نہیں کرے گی تو عوام دوسری طرف چلے جائیں گے۔

جی-20 کانفرنس پر تبصرہ کرتے ہوئے راکیش ٹکیٹ نے کہا کہ یہ ایک بین الاقوامی پروگرام ہے جو کبھی کسی ملک میں ہوتا ہے اور کبھی کسی دوسرے ملک میں۔ اس بار اس کا میزبان ہندوستان ہے۔ اس کا بڑا پیغام پوری دنیا میں جاتا ہے۔ ہمیں اس پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔ ہمارا بھی ایک بین الاقوامی پروگرام ہے، اس بار بین الاقوامی پروگرام ہندوستان میں ہوگا، 800 کے قریب کسان مندوبین ہندوستان تشریف لائیں گے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اپوزیشن کو مضبوط ہونا چاہیے، اپوزیشن کمزور ہوگی تو آمر پیدا ہوں گے۔ سب سے زیادہ قبضہ کرنے والے بی جے پی اور سنگھ کے لوگ ہیں، اپنی زمین کو ان سے بچائیں۔

بھارتیہ کسان یونین کے ترجمان ٹکیت نے کہا کہ اتحاد کو متحد ہو کر لڑنا ہوگا۔ اپوزیشن تحریک کے لیے راستہ تیار کرے۔ اگر مرکزی حکومت کی کوتاہی ہے تو اس کے خلاف احتجاج ہونا چاہیے۔ مسائل صرف کسان تنظیموں کے نہیں ہیں اور بھی بہت سے مسائل درپیش ہیں۔ اپوزیشن کو سڑک پر آنے کی ضرورت ہے۔ گھر میں سونے سے کام نہیں چلے گا، جدوجہد شروع کرنی ہوگی۔